حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کے فارغ التحصیل شعبے کی انچارج سیدہ ندا زہراء رضوی نے ہفتۂ وحدت اور جشنِ صادقین (ع) کے موقع پر، حوزہ ہائے علمیہ کی فارغ التحصیل طالبات و معلمات کی وحدتِ امت کے لیے علمی و عملی حکمتِ عملی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت کے فروغ میں ان کے کردار پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کی فارغ التحصیل طالبات و معلمات کو اپنی علمی و تبلیغی سرگرمیوں کو صرف مدارس تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ انہیں معاشرے کے وسیع تر علمی و فکری مراکز تک اپنی رسائی کو نیز یقینی بنانا چاہیے۔
سیدہ ندا زہراء نے اس سوال ”موجودہ دور میں فرقہ وارانہ تعصبات اور فکری انتشار کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر دینی مدارس کی فارغ التحصیل طالبات و معلمات وحدتِ امت کے لیے کن علمی و عملی حکمتِ عملیوں کو اختیار کر سکتی ہیں؟ کے جواب میں کہا کہ موجودہ دور میں وحدتِ امت کے لیے صرف جذباتی اپیل کافی نہیں، بلکہ ایک مضبوط علمی، فکری، سماجی اور تربیتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ حوزۂ علمیہ کی فارغ التحصیل طالبات اس میدان میں ایک مؤثر علمی و فکری پل کا کردار ادا کر سکتی ہیں، جو مختلف مکاتبِ فکر اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان رابطے، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو فروغ دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فارغ التحصیل طالبات اپنی علمی و تبلیغی سرگرمیوں کو صرف مدارس اور حوزہ ہائے علمیہ تک محدود نہ رکھیں، بلکہ معاشرے کے وسیع تر علمی و فکری مراکز تک اپنی رسائی پیدا کریں۔ بالخصوص مختلف یونیورسٹیوں، کالجز، تحقیقی اداروں اور علمی مراکز کے ساتھ رابطہ قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہاں علمی نشستوں، سیمینارز، ورکشاپس اور بین الکلیاتی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان نسل کے ساتھ براہِ راست علمی رابطہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔
محترمہ ندا زہراء نے کہا کہ یہاں فارغ التحصیل طالبات کا کردار اور طرزِ گفتگو خود ایک مؤثر ذریعۂ تبلیغ بن سکتا ہے۔ جب ایک حوزوی تعلیم یافتہ خاتون علم، اخلاق، شائستگی، وسعتِ نظر، دلیل اور حسنِ تعامل کے ساتھ مختلف علمی حلقوں میں موجود رہے گی تو وہ عملی طور پر اسلام کے حقیقی، عقلی، اخلاقی اور رحمت پر مبنی چہرے کو متعارف کرواتی ہے۔ یوں وحدت کا پیغام محض تقریروں کا موضوع نہیں رہتا، بلکہ ایک عملی تجربے اور معاشرتی رویے کی صورت اختیار کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے شعبۂ امورِ فارغ التحصیلان کی جانب سے مختلف یونیورسٹیوں اور علمی اداروں کے دورے، تعلیمی و تحقیقی شخصیات سے روابط اور مشترکہ علمی سرگرمیوں کے ذریعے رابطے کی کوششیں ایک قابلِ قدر مثال ہیں۔ اس نوعیت کے روابط کو مزید منظم اور وسیع کیا جا سکتا ہے، تاکہ فارغ التحصیلان اپنے اپنے شہروں اور ممالک میں یونیورسٹیوں، علمی اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر مؤثر سماجی حلقوں کے ساتھ مستقل علمی روابط قائم کریں۔
سیدہ رضوی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فارغ التحصیل طالبات بین المسالک علمی مکالمے کو فروغ دیں۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علمی ورثے، مشترکات اور اختلافات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرکے اختلافِ رائے کے آداب کو عام کریں۔ قرآنِ کریم، سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات، اسلامی اخلاق، انسانی اقدار اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مسائل کو وحدت کے محور کے طور پر پیش کریں۔
انہوں نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائعِ ابلاغ کو ایک اہم میدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ فارغ التحصیل طالبات تحقیقی اور مستند مواد کے ذریعے فرقہ وارانہ نفرت، تعصب اور فکری مغالطوں کا علمی جواب دے سکتی ہیں اور نوجوان نسل کے سامنے اسلام کا متوازن، عقلی، اخلاقی اور حقیقی وحدت کا تصور پیش کر سکتی ہیں۔
محترمہ ندا زہراء رضوی نے کہا کہ آج وحدتِ امت کا مؤثر راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی علمی شناخت کو محدود دائرے سے نکال کر معاشرے کے تمام علمی و فکری مراکز تک لے جائیں؛ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکیں، مشترکات کو عملی تعاون میں تبدیل کریں اور اپنے کردار، علم اور اخلاق کے ذریعے اسلام کے حقیقی چہرے سے دنیا کو متعارف کروائیں۔ حوزۂ علمیہ کی فارغ التحصیل طالبات اس علمی، فکری اور معاشرتی رابطے میں ایک نہایت مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کے امور فارغ التحصیلان کی انچارج نے اس سوال "حوزۂ علمیہ کی فارغ التحصیل طالبات و معلمات امتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت کے فروغ میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟ کے جواب میں کہا کہ یہ ایک نہایت اہم اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ سوال ہے۔ حوزۂ علمیہ کی فارغ التحصیل طالبات وحدت امت کو اپنا شعار بناتے ہوئے اپنی دینی تعلیم، علمی صلاحیتوں، فکری بصیرت اور سماجی استعداد کو بروئے کار لا کر امتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت کے فروغ میں مؤثر اور بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے اہم کردار تعلیم و تربیت کے میدان میں ہے۔ فارغ التحصیل طالبات مدارس، یونیورسٹیز، مختلف تعلیمی و تربیتی مراکز اور اپنے گھروں میں نئی نسل کی ایسی تربیت کر سکتی ہیں جس کی بنیاد اسلامی اخوت، رواداری، باہمی احترام اور امت کی مشترکہ شناخت پر ہو۔ اسی طرح تحقیق، تبلیغ اور ابلاغ کے ذریعے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان موجود مشترکات کو علمی انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ قرآنِ کریم، توحید، رسالتِ مآب حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی سیرت، اہل بیت (ع) کی تعلیمات اور اسلامی اخلاق و اقدار ایسے بنیادی مشترکات ہیں جو امت کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
سیدہ ندا زہراء رضوی نے کہا کہ آج کے دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا بھی وحدتِ امت کے فروغ کا ایک اہم میدان ہے۔ فارغ التحصیل طالبات علمی، متوازن اور حکمت پر مبنی مواد کے ذریعے اسلام کا حقیقی اور حقیقی وحدت پر مشتمل پیغام عام کر سکتی ہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اختلافی مسائل کو علمی، اخلاقی اور اعتدال پسندانہ انداز میں بیان کر سکتی ہیں اور فرقہ وارانہ تعصبات کے بجائے منطقی و مدلل مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کی فضا قائم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مزید برآں، وہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین کے درمیان علمی و فکری مکالمے، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کرکے باہمی شناخت اور افہام و تفہیم کو فروغ دے سکتی ہیں۔ خصوصاً خواتین کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ خاندان اور نسلِ نو کی فکری و اخلاقی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نزدیک وحدتِ امت محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک فکر، ثقافت اور طرزِ زندگی ہے اور اس کی مضبوط بنیاد علم، اخلاق، باہمی احترام، حسنِ گفتگو اور مشترکہ اسلامی شناخت پر قائم ہوتی ہے۔ ہم سب حوزۂ علمیہ کی فارغ التحصیل طالبات اگر ان اصولوں کو اپنی علمی و عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو امتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت کے لیے ایک مؤثر فکری و تربیتی قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ